خط
سلام عرض ہے جنابِ من !
میں جھوٹ بولتا نہیں مگر،
میں ٹھیک ہوں میں خیریت سے ہوں
اب آپ کی بھی خیریت کی خبر ملے تو جان پاؤں آپ ٹھیک ہیں، مزے میں ہیں ،
یہ جانتے ہوئے کہ خیریت کا خط کبھی نہیں لکھیں گے آپ !
اور جانتے ہوئے کہ آپ خیریت سے ہیں، مزے میں ہیں
مگر میں پھر بھی منتظر ہوں اور منتظر رہوں گا جانے کب تلک!
میں جھوٹ بولتا نہیں مگر،
میں مضطرب نہیں، میں غم زدہ نہیں ، یہ بے کلی مجھے ستا نہیں رہا
یہ بے بسی بھی میرے پاس آ نہیں رہی
طبیعت اب بڑی ہی پر سکون ہے،
رگوں میں خون کی جگہ قرار دوڑتا ہے اب
مجھے تو کوئی رات یاد ہی نہیں
وہ یاد ہے ناں آپ کو کہ جب اداس ہو کے میرا نام کتنی بار لے کے مجھ سے آپ پوچھتی تھی کیا کرو گے میرے بن؟
اگر تمہیں ملوں نہیں؟
اگر تمہیں دِکھوں نہیں؟
تو دل کی بات کس کے پاس جا کے تم سناؤ گے؟
مر ے طرح سے کون نام لے گا اس طرح ؟
مجھے جو دل کی ساری باتیں یاد تھیں حرف حرف
میں جھوٹ بولتا نہیں مگر
مجھے تو اب وہ دل کی کوئی بات یاد ہی نہیں!
جنابِ من! عزیزِ جاں!
پاس کی گلی میں ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے ،
نا جانے کس خیال میں چلا گیا تھا دور تک
بڑا حسیں خیال تھا!
حقیقتاً فراق ہے، خیال میں وصال تھا مگر وہ باکمال تھا
میں اس قدر کسی دھیان میں مگن ہوا کہ راستوں سے بے خبر بڑی ہی دور تک چلی
بڑی ہی دیر تک چلا کہ پھر حواس کی جو بے شمار ٹھوکریں لگیں تو گر پڑا
بڑی بُری طرح گرا
گلی بھی سوچتی تو ہو گی کیا عجیب شخص ہے
مگر خیال میں وہ آپ تو نہیں تھے اے جنابِ من!
میں جھوٹ بولتا نہیں مگر
کبھی کبھی۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں مجھ کو خط نہیں لکھیں گے آپ
پھر بھی جانے کس لیے یہ لکھ رہا ہوں آپ کو
میں یہ بھی جانتا ہوں میرا خط کبھی نہیں ملے گا آپ کو
میں آپ کو کبھی یہ نہیں بھیج پاؤں گا
شاید کبھی رابطہ بھی نہیں
رکھیں گے آپ
کہ میں تو جھوٹ بولتا نہیں تو پھر یہ خط ہی کیوں؟؟؟
جنابِ من! عزیزِ من!
سلامتی ، دعائیں ۔۔۔

Comments
Post a Comment